اسلام کا اقتصادی نطام تعارف اور خصوصیات



اسلام کا اقتصادی نطام تعارف اور خصوصیات




علم المعیشت کو روز اول سے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر حضرت  محمدﷺ کی وساطت سے پہنچایا۔جس کا مطالعہ غیر مسم مصنفین نے بھی کیا اوراپنی رائے کا اظہار درج زیل الفاظ میں کیا۔اور اس بات کو تسلیم کیا کے یہ علم جو کے سائنس آف اکانومی کے نام سے جانا جاتا ہے کاروبار زندگی کو جاری اور ساری رکھنے 
کے لیے از حد ضروری ہے۔معاشیات ایسا علم ہے جس میں دولت کی مختلف اشکال کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔اور ان اصولوں پر بحث و تمحیص کی جاتی ہے۔ حاصل دولت اور تقسیم دولت کے مختلف ہیمانے ہیں۔۔ معاشیات میں انسان کے ان افعال کا مطالعہ کیا جاتا ہے جن کا تعلق زندگی کے روز مرہ حالات سے ہے۔

ایک مہر معاشیات لکھتے ہیں کہ معاشیات کا مقصد مادی فلاح انسانی کا دارومداہے۔ اویک اور ما ہر معاشیات دان مسٹر پیگو لکھتے ہیں کہ معاشیات کا تعلق معاشرتی زندگی کے اس پہلو سے ہے جو بالواسطہ یا یا بلاوسطہ زر کے پیمانے سے ناپا جاتا ہے۔


عاملین پیدائش

دنیا بھر میں معاشیات کے ما ہرین عام طور پر زر، زمیں، محنت اور تنظیم  کو عاملین پید ئش گردانتے ہیں۔اس کے ساتھ ہمت اور مستعدی کہ بھی شامل کیا جاتا ہے۔پس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اصل عامل پیدائش زمین اور محنت ہی ہیں۔اور  دونوں میں اضافہ نا ممکن ہے کیوں کہ یہ دونوں عطیہ خدا وندی ہیں۔

معاشیات کا مقصد
اس کا مقصد اسلامی فلاح کا مطالعہ کرنا ہے۔ جو کہ زمینی وساہل کو منظم کرنے حصہ لینے اور باہمی تعاون سے حاصل ہوتی ہے۔
یہ علم قرآن و سنت کے مطابق ہے۔
 بے انصافی کا خاتمہ
معاشری کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی تکمیل
فلاح یونی دنیا اور آخرت کی کامیابی بھی معاشیات کا لازمی جزو ہے۔


اسلام چاہتا ہے کہ مسلمان دنیا اور آخرت کی فلاح حاصل کر سکیں فکر معاش کریں اور ڈٹ کر اقوام عالم کا مقابلی کریں تاکہ وہ عظمت و جلالت اسلام کی پاسداری کر سکیں۔


 


Comments